Answer:
B. They are both signed in the direction that the word indicates: in front of you = future and behind you = past.
Explanation:
ASL is an acronym for American Sign Language and it's basically a naturally complete language that is used as a form of sign-language for the deaf and du-mb communities in the United States of America. The American Sign Language is visual and gestural in nature, so it is expressed mainly by using signs such as movement of the hands, fingers and face.
Furthermore, in using an American Sign Language (ASL), the correct sequence to describe a familiar individual is to start with the sign "see" followed by the gender, ethnicity, skin color, height, body type, complexion, and clothing.
The similar thing about the signs for "tomorrow" and "yesterday" is that they are both signed in the direction that the word indicates: in front of you = future and behind you = past.
This simply means that, to tell a physically impaired person about what would happen tomorrow or in the future, you will sign in the front direction (in front of you) while to to inform him or her about an event that happened yesterday or in the past, you will point behind you (behind you).
The answer to the following question:
<span>What is the best definition for the underlined word based on the following sentence? "The motley nature of the poems from this unit is meant to give the reader an all-encompassing view on American poetry." A. Long-winded B. Difficult C. Boring D. Diverse
is:
D. Diverse</span>
Answer:
Context Clues. These are in the text surrounding a word and give hints for the meaning of the word.
Explanation:
Here you go
Answer:
ہم سے قتبیہ بن سعید نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا ، ان سے ابوسہیل نے ، ان سے ان کے والد مالک نے اور ان سے طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک اعرابی پریشان حال بال بکھرے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ ! بتائیے مجھ پر اللہ تعالیٰ نے کتنی نمازیں فرض کی ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانچ نمازیں ، یہ اور بات ہے کہ تم اپنی طرف سے نفل پڑھ لو ، پھر اس نے کہا بتائیے اللہ تعالیٰ نے مجھ پرر وزے کتنے فرض کئے ہیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان کے مہینے کے ، یہ اور بات ہے کہ تم خود اپنے طور پر کچھ نفلی روزے اور بھی رکھ لو ، پھر اس نے پوچھا اور بتائیے زکوٰۃ کس طرح مجھ پر اللہ تعالیٰ نے فرض کی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے شرع اسلام کی باتیں بتا دیں ۔ جب اس اعرابی نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت دی نہ میں اس میں اس سے جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر فرض کر دیا ہے کچھ بڑھاؤں گا اور نہ گھٹاؤں گا ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ مراد کو پہنچایا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ) اگر سچ کہا ہے تو جنت میں جائے گا ۔
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے یزید بن ابی حبیب نے اور ان سے عراک بن مالک نے بیان کیا ، انہیں عروہ نے خبر دی کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا قریش زمانہ جاہلیت میں عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس دن روزہ کا حکم دیا یہاں تک کہ رمضان کے روزے فرض ہو گئے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کا جی چاہے یوم عاشورہ کا روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے ۔